Pages

Tuesday, May 3, 2011

Q-League Ministers Take oath - قاف لیگ کے چھ وزراء نے حلف اٹھا لیا

 بی بی سی اردو ڈاٹ کام :Courtesy

قاف لیگ کے چھ وزراء نے حلف اٹھا لیا

پاکستان میں حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ قاف کے چھ وفاقی وزراء اور سات وزرائے مملکت نےحلف اٹھا لیا۔صدر آصف علی زرداری نے ان سے حلف لیا۔
اس طرح سے مسلم لیگ قاف باقاعدہ طور پر مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا حصہ بن گئی۔
اسلام آباد میں نامہ نگار ذوالفقار علی کےمطابق پیر کی شام کو ایوان صدر میں ہونے والے حلف برداری کی تقریب میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزراء اور اعلیٰ سول حکام نے شرکت کی۔

وفاقی وزراء کا حلف اٹھانے والوں میں چوہدری پرویز الہیٰ، امیر مقام، چوہدری وجاہت حسین، مخدوم فیصل صالح حیات، انور چیمہ، غوث بخش مہر اور ریاض پیرزادہ ہیں۔
خواجہ شیراز محمود، سردار بہادر خان، اکرم مسیح گل، شاہ جہان یوسف، وقاص اکرم، رانا آصف توصیف اور رضا حیات حراج نے وزیر ممکت کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
مسلم لیگ قاف کی طرف سے چھ وفاقی وزراء کے حلف کے بعد وفاقی وزراء کی کل تعداد ستائیس ہوگئی ہے جبکہ وزراء مملکت کی تعداد سات ہوگئی ہے۔
لیکن نئے وزراء اور وزراء مملکت کے محکموں کا اعلان نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ اتوار کی شب حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ قاف کے درمیان شراکت اقتدار پر سمجھوتہ طے پانے کے بعد مسلم لیگ ق نے مرکز میں پیپلز پارٹی میں حکومت میں شمولیت اختیار کی۔
یہ سمجھوتہ اتوار کی شب پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کی اعلیٰ ترین قیادت کے درمیان ملاقات میں طے پایا تھا۔
اس اجلاس میں پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سابق وزراء مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف اور صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔
مسلم لیگ قاف کے طرف سے اس اجلاس میں جماعت کے سربراہ چودھری شجاعت حسین، پنچاب کے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہیٰ اور پنچاب کے سابق وزیر قانون راجہ بشارت شریک ہوئے تھے۔
اجلاس کے اختتام پر صدر آصف علی زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ مسلم لیگ قاف وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں شامل ہونے کے لیے رضامند ہوگئی ہے۔
ترجمان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ یہ دونوں جماعتیں آئندہ انتخابات میں ایک دوسرے سے تعاون کریں گی۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اجلاس میں یہ بھی طے ہوا کہ ’دونوں جماعتیں مل کر کام کریں گی اور جمہوریت کے استحکام، جنوبی پنجاب میں سرائیکی صوبہ، خیبر پختونخواہ میں ہزارہ صوبہ بنانے اور انتخابی اصلاحات اور فاٹا میں اصلاحات پر تعاون کیا جائے گا‘۔
اس اجلاس کے بعد مسلم لیگ کے رہنماؤں چودھری شجاعت، چودھری پرویز الہیٰ اور راجہ بشارت نے بھی اسلام آباد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔
مسلم لیگ قاف کے رہنما اور پنجاب کے سابق وزیر قانون راجہ بشارت نےاس موقع پر کہا تھا کہ ان کے اراکین پیر کی شام کو وفاقی وزراء کے عہدوں کا حلف اٹھائیں گے۔
تاہم انھوں نے مسلم لیگ قاف کے وزراء کی تعداد اور ان کے قلمدان کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
نائب وزیراعظم کے عہدے کے بارے میں ایک سوال پر چودھری پرویز الہیٰ نے کہا تھا کہ پہلے مرحلے پر سینیئر وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیراعظم کے عہدے کی تخلیق کے بارے میں دونوں جماعتوں کے قانونی ماہرین کے درمیان ابہام پایا جاتا ہے لہذا اس عہدے کی تخلیق کے لیے اگر آئینی ترمیم کرنا پڑی تو یہ بعد میں کی جائے گی۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ قواعد و ضوابط میں نائب وزیر اعظم کے عہدے کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور یہ کہ اس کے لیے ’ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے اور نہ ہی ہم کوئی غیر قانونی کام کرنا چاہتے ہیں۔‘
سنیچر کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ قاف کے رہنما فیصل صالح حیات نے کہا تھا کہ صدر زرداری نے ان کی جماعت کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں میں حصہ داری کے ساتھ ساتھ نائب وزیر اعظم کا عہدہ دینے کا بھی وعدہ کیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ نائب وزیر اعظم کے عہدے کے لیے ان کی جماعت نے اب تک کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی ہی سب سے موزوں امیدوار ہیں۔
فیصل صالح حیات نے اس کا اعلان جمعہ کو ایوان صدر میں چودھری شجاعت اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان شراکت اقتدار پر ہونے والی بات چیت کے بعد کیا تھا۔
اس ملاقات میں خود فیصل صالح حیات بھی شریک ہوئے تھے جنھیں اس اتحاد میں رکاوٹ سمجھا جا رہا تھا۔
فیصل صالح حیات نےیہ بھی کہا تھا کہ ان کی جماعت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان اتحاد پر اصولی طور پر اتفاق ہوگیا ہے جو صرف شراکت اقتدار کے لیے ہی نہیں بلکہ آئندہ انتخابات کے لیے بھی ہوگا۔
دونوں جماعتوں کے درمیان شراکت اقتدار کے لیے بات چیت کا عمل پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کا اتحاد ٹوٹنے کے کچھ ہفتوں کے بعد شروع ہوا تھا۔
لیکن دونوں جماعتوں کی اعلیٰ ترین قیادتوں کے درمیان ملاقاتوں میں پچھلے پانچ دنوں میں تیزی آئی تھی جو بلاآخر شراکت اقتدار کے باضابطہ سمجھوتے پر منتج ہوئی۔

....................

Note: The viewpoint expressed in this article is solely that of the writer / news outlet. "FATA Awareness Initiative" Team may not agree with the opinion presented.
....................

We Hope You find the info useful. Keep visiting this blog and remember to leave your feedback / comments / suggestions / requests / corrections.
With Regards,
"FATA Awareness Initiative" Team.

No comments:

Post a Comment