Pages

Tuesday, May 10, 2011

PML-N and Sharifs at Crossroads in Post Bin Laden Scenario (BBC Urdu) - شریفوں میں اختلاف رائے

بی بی سی اردو ڈاٹ کام :Courtesy
شریفوں میں اختلاف رائے
آصف فاروقی
دو مئی کا دن پاکستان مسلم لیگ نواز کے لیے بارہ اکتوبر سے اگر زیادہ تباہ کن نہیں تھا تب بھی ان تازہ واقعات کے اثرات پاکستان کی دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت کے مستقبل پر اہم نقوش چھوڑ گئے ہیں۔
بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو فوجی بغاوت کے باعث نواز شریف اقتدار سے محروم کر کے جیل میں بند کر دیئے گئے تھے۔
دو مئی دو ہزار گیارہ کا آغاز امریکی صدر براک اوباما کے اس اعلان کے ساتھ ہوا کہ ایبٹ آباد میں ایک امریکی حملے میں القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد میں شام ڈھلے حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق کے ارکان نے وفاقی کابینہ کے ارکان کے طور پر حلف اٹھایا۔

ان دو واقعات نے مسلم لیگ نواز کو ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پر یہ جماعت راستے کے انتخاب میں نا صرف ہچکچاہٹ کا شکار ہے بلکہ پارٹی قیادت میں سمت کے تعین پر گہرے اختلافات اس معاملے کو زیادہ پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف اپنے بڑے بھائی اور پارٹی راہبر میاں نواز شریف کو قائل کرنے میں ناکامی کے بعد پارٹی کے دیگر راہنماؤں سے انفرادی حیثیت میں رابطے کر کے انہیں یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ایبٹ آباد میں امریکی مداخلت سے آگاہ نہیں تھے لہذا انہیں اس معاملے پر ہدف تنقید بنانا درست نہیں۔
پارٹی قائد نواز شریف پیپلز پارٹی کے مسلم لیگ ق سے اتحاد اور سیاسی طور پر مسلم لیگ نواز کو تنہا کرنے کی بعض دیگر کوششوں کا ذمہ دار مسلح افواج کے انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی اور کسی حد تک فوج کو سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر ان اداروں کو کسی قسم کی غیر ضروری چھوٹ دینے کے حق میں نہیں ہیں۔
اس نکتے پر پارٹی کے کون سے اہم راہنما کس بھائی کے مؤقف کے حق میں ہیں اور کسے زیادہ حمایت حاصل ہے، یہ حقیقیت ابھی تک طے نہیں ہو سکی کیونکہ بیشتر مسلم لیگی راہنما ابھی تک اس بارے میں کھل کر اپنے دلی جذبات کا اظہار کرنے سے احتراز کر رہے ہیں۔
سوموار کی شام قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کی تقریر نے البتہ یہ ظاہر کر دیا ہے کہ جب تک پارٹی قیادت اس بارے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچتی، عبوری طور پر نواز شریف کے مؤقف کو مقدم رکھا جائے گا۔
اس دوران حتمی پارٹی پالیسی کی تیاری کے لیے پارٹی کے اندر محدود سطح پر مشاورتی عمل کا آغاز کیا جا چکا ہے۔
منگل کے روز اسلام آباد کے پنجاب ہاؤس میں مسلم لیگ نواز کی پارلیمانی پارٹی اور مرکزی مجلس عاملہ کے مشترکہ اجلاس کے بعد اہم راہنماؤں کا غیر رسمی اجلاس منعقد کیا گیا۔
بعد میں ہونے والے اجلاس میں اس متنازعہ معاملے کو زیربحث لایا گیا جبکہ پارٹی کے باقاعدہ فورمز کو اس بحث میں حصہ لینے کا شرف حاصل نہیں ہو سکا۔
شاید یہی وجہ تھی کہ منگل کے روز پارٹی کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا۔

شہباز شریف فارمولا۔

مسلم لیگ کے صدر اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کی بری فوج کے موجودہ سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے روابط ڈھکے چھپے ہیں اور نہ دونوں جانب سے ایسا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گاہے بگاہے ہونے والی ان ملاقاتوں کے باعث شہباز شریف کے بارے میں سیاسی پنڈتوں میں یہ گمان پایا جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی نسبت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے لیے زیادہ قابل قبول ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ابھی قبل از وقت دکھائی دیتا ہے۔ سر دست بات ہورہی کہ ہے ملک کو درپیش سنگین صورتحال پر شہباز شریف کے مؤقف کی جو خاصا دلچسپ ہے۔
شہباز شریف کا مؤقف عام فہم اور پاکستانی سیاسی حقائق پر مبنی ہے۔ وہ دو باتیں کہتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ حلفاً یہ بات کہنے کے لیے تیار ہیں کہ جنرل کیانی کو ایبٹ آباد میں امریکی دراندازی کا پیشگی علم نہیں تھا۔ اب جنرل کیانی سے ان کی مراد کیا ہے؟ یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ کیا وہ پوری ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو اس واقعے سے بری الذمہ قرار دے رہے ہیں؟ یہ کہنا مشکل ہے۔
دوسرا ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی مبینہ کشیدگی میں انہیں پیپلز پارٹی کی حکومت کا ساتھ دینے سے بچنا چاہئے۔
یعنی ایبٹ آباد آپریشن پر مسلم لیگ نواز کو اپنی توپوں کا رخ جی ایچ کیو کے بجائے ایوان صدر کی طرف رکھنا چاہئے۔

نواز شریف کی مستقل مزاجی۔

نواز شریف اس بارے میں جو مؤقف رکھتے ہیں اسے کم سے کم الفاظ میں ان کی مستقل مزاجی کا مظہر قرار دیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف کے بارے میں ان کی پارٹی کے راہنما برملا کہتے ہیں کہ وہ بارہ اکتوبر کے بعد اپنے ساتھ پاکستانی فوجی افسران کے ہتک آمیز رویے کو بھلا نہیں پائے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی طرح وہ پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے سے کتراتے رہے۔ اسی لیے ان کے مؤقف میں لچک کی کمی دکھائی دیتی ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ جائز یا نا جائز، وہ سیاسی حکومت کے مقابلے میں اب بھی فوجی سربراہ کی کھلی حمایت کرنے کے حق میں نہیں۔ دوسرے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری پچھلے ایک سال سے جو سیاسی چال بازیاں کر کے انہیں خاص طور پر صوبہ پنجاب میں کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، اس میں انہیں فوج یا کم از کم آئی ایس آئی کی مدد حاصل ہے۔
مثال کے طور پر وہ مسلم لیگ ق کی حکومت میں شمولیت کو پیش کرتے ہیں۔ نواز شریف کا خیال ہے کہ ق لیگ کی پیپلز پارٹی سے الحاق میں آئی ایس آئی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔
یہ بات تو خیر شہباز شریف اور ان کے مؤقف کے حامی بھی تسلیم کرتے ہیں کہ صوبہ پنجاب میں ان کی جماعت کو نقصان پہنچانے کے لیے تحریک انصاف کو منظم کرنے اور اس کے سربراہ عمران خان کو مقبول بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ نواز اس مخمصے کی کیفیت سے کب تک نکل پائے گی اور کون سا راستہ منتخب کرے گی یہ تو جلد یا بدیر واضح ہو ہی جائے گا۔ لیکن مبصرین سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ نواز کو اگلے انتخابات سے قبل سیاسی مقبولیت کی بلندیوں تک پہنچے کے لیے اس دو راہے میں کسی کوئی تیسرا راستہ نکالنا ہو گا۔
....................

Note: The viewpoint expressed in this article is solely that of the writer / news outlet. "FATA Awareness Initiative" Team may not agree with the opinion presented.
....................

We Hope You find the info useful. Keep visiting this blog and remember to leave your feedback / comments / suggestions / requests / corrections.
With Regards,
"FATA Awareness Initiative" Team.

No comments:

Post a Comment